پاکستانی اسکول اور کالجز کس طرح نوجوان نسل کی ناکامی کا باعث بن رہے ہیں؟

Chinese students joblessness-4 unburdened solutions
August 30, 2022
12 advantages of choosing Al Nafi over other e-learning platforms?
August 30, 2022

اردو کی ایک کہاوت ہے: کریلا اور نیم چڑھا۔ یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کسی کی بدمزاجی بڑھ جاتی ہے۔پاکستانی اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان کریلے ہیں جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد نیم چڑھے ہوجاتے ہیں۔، یعنی ان کی بدمزاجی روز بہ روز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انھیں اسکول اور کالج سے نکلنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کیا ہے، نوکری اور کاروبار کے کیا تقاضے ہیں، اور فکر اور پریشانی کسے کہتے ہیں۔ہر سال اوسطاً تیس لاکھ بچے پاکستانی اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور یہ اسکول اور کالجز انھیں کریلے بنادیتے ہیں۔۔۔۔کڑوے کریلے۔

کچھ نوجوان کریلے نہیں بنتے۔ یہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جو اسکول اور کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے خاندان، تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت حاصل کرتے ہیں اور ہر قسم کے مسائل سے زندگی بھر دور رہتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ حاصل کرنا، دبئی اور نیویارک کی سیر کرنا، بیرون ملک ٹریننگ پر جانا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ایسے نوجوانوں کی ملازمت مستقل، محفوظ اور مفید ہوتی ہے۔ جب چم چم کرتی کاروں میں ایسے نوجوان سفر کرتے ہیں ،کسی سیون اسٹار ہوٹل میں کسی علمی کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں، بیرون ملک کوئی ایوارڈ حاصل کرتے ہیں تو ان کے اسکول اور کالجز ان کی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر چسپاں کرتے ہیں کہ یہ دیکھیے۔۔۔۔ہمارے ہونہار نوجوان جو امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں وطنِ عزیز کا نام روشن کررہے ہیں۔ نام ور ادارے انھیں اپنے ہاں چیف گیسٹ بلاتے ہیں اور بڑے بڑے بینک انھیں بھاری مالیت کی رقم بہ طور قرض دینے پر بھی آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ “کامیاب نوجوان ” اسکول اور کالج کے زمانے سے ہی تین چار لاکھ روپے ماہانہ کماتے ہیں اور ان کے ہم جماعتوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ سیدھی سی بات ہے۔جو بچہ اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی تین چار لاکھ روپے کمائے گا، وہی تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد دس بارہ لاکھ روپے ماہانہ کمائے گا۔ایسے نوجوانوں کے لیے ایک اردو میں ایک اور محاورہ ہے: سونے پر سہاگا۔

یہ سب چکاچوند دیکھ کر وہ نوجوان جو غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچھی ملازمت حاصل کرنے خواہش مند ہوتے ہیں، اس حد تک سوچنے لگتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹی مچھلی ہیں اور اگر وہ بڑی مچھلی بننا چاہتے ہیں تو انھیں لازماً اپنے سے چھوٹی مچھلی کو کھانا ہوگا ، اور بڑی مچھلی بن کر بھی یہی عمل جاری رکھنا ہوگا۔آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک سیٹھ ،تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کم تنخواہ پر ملازم رکھ لیتا ہے اور ان پر خوب گرجتا برستا رہتا ہے۔ پانچ بجے جب چھٹی کا ٹائم ہوتا ہے تو سیٹھ اپنے کسی ہونہار ملازم کو اپنے پاس بلالیتا ہے اور ایک دو گھنٹے کام کی باتیں کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس ذہین نوجوان کا وقت ضائع ہو، اس کے پاس کوئی دوسرا سنہری موقع نہ آسکے اور اس کا دماغ آگے بڑھے کے متعلق سوچ ہی نہ سکے۔ وہ سیٹھ، نوجوانوں کی ذہن سازی کرتا ہے اور انھیں سمجھاتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف پیسے کا حصول ہے اور اس مقصد کے لیے نوجوان بعض اوقات اخلاقیات کی حد بھی پار کرجاتے ہیں۔ خود غرضی، مفاد پرستی اور لالچ کے اس جال میں وہ نوجوان پھنستے ہیں جن کی صحبت خراب ہوتی ہے، یا جن کے اسکول اور کالج کے اساتذہ ، بلکہ ان کے اسکول کے پرنسپل بھی اخلاقی حدوں کو پار کرچکے ہوں۔ ایسے طلبہ کی انتہائی افسوس ناک حرکتیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں ۔

غریب کا بچہ اگر اچھی ملازمت حاصل نہیں کرسکتا تو کیا کرے؟ مرجائے؟ نہیں۔ ہر ملک کی حکومت کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر غریب مل جائیں تو پورے نظام کو تلپٹ کردیں۔ متوسط طبقے کے نوجوان اگر متحد ہوجائیں تو کسی بھی ملک میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ تاہم ہر وہ حکومت جو استعماری قوتوں کے اشارے پر ناچتی ہے، یہ بات جانتی ہے کہ اگر ملک کے نوجوانوں کو صرف روپیہ کمانے پر نہ لگایا گیا اور اگر ان کی مادی زندگی میں انھیں آرام و سکون نہ پہنچایاگیا ، باالفاظ دیگر، اگر غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے بشری تقاضے پورے نہ کیے گئے تو وہ اپنی عقل استعمال کرنا شرو ع کردیں گے اور جب ہزاروں لاکھوں نوجوان اپنی عقل سے کام لیں گے تو سرمایہ دارانہ نظام، جاگیردارانہ نظام ، وڈیرانہ نظام، سردارانہ نظام اورسیٹھ کلچرختم ہوجائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دو سمتوں میں کام کیا جائے۔ اول یہ کہ سرکاری اسکولوں، سرکاری کالجوں ، اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کو جڑ سے ہی ختم کردیا جائے اور انھیں دنیامیں ابھرنے والی جدید ٹیکنالوجی سے دور کردیا جائے۔ انھیں نصابی کتب کا رٹا لگانے، نقل کرنے، بدنظمی پھیلانے، اخلاقیات کا جنازہ نکالنے، حتی کہ بے کار قسم کی سرگرمیوں میں مصروف کردیا جائے۔ تاکہ غریب اور متوسط طبقے کا بچہ اپنے زمانۂ طالب علمی میں اپنی عقل کو محدود کرلے اور کنویں کا مینڈک بن کر رہ جائے۔ دوم یہ کہ جب غریب کا بچہ گھسی پٹی تعلیم مکمل کرلےتو اسے ڈرائیور، کلرک ، سرکاری نوکری، اور اسی قسم کے نچلے شعبوں میں داخل ہونے پر مجبور کردیا جائے اور اسے جدید ایمرجنگ ٹیکنالوجی سے کوسوں دور رکھا جائے کیوں کہ امریکا، کینیڈا ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تو صرف اور صرف میرٹ پر ہی ملازمتیں ملتی ہیں اور حتی کہ اگر ادارے کا سربراہ کسی کرپشن میں ملوث ہو تو اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں کرپشن کی شرح دیگر ترقی پذیر ممالک کی نسبت کم ہے۔

سوال گھوم پھر کر وہیں آجاتا ہے کہ آخر ایسی کیا بات ہے کہ پاکستانی اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کامیابی کے بجائے ناکامی کی طرح بڑھتے ہیں؟ آخر ان اسکولوں اور کالجوں میں ایسا کیا ہورہا ہے کہ اب کسی ایک طالب علم کی ناکامی نہیں بلکہ پوری نوجوان نسل کی ناکامی سامنے آرہی ہے؟ پاکستان کے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں اربوں روپے کی کرپشن، پرائیوٹ اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے واقعات اور نااہل افراد کی اہم علمی و انتظامی مناصب پر تقرری کے واقعات سے قطع نظر میں بالکل سیدھی بات کرنا چاہتا ہوں۔

ایسی کرپشن دنیا میں کہاں نہیں ہے۔ ہمیں اسی کرپشن کے ساتھ جینا اور مرنا ہے۔ سمجھداری اس میں ہے کہ راستے سے بھی گزر جائیں اور اپنے دامن کو کیچڑ کے چھینٹوں سے بھی بچائیں۔ یعنی فی الحال ان ہی پاکستانی اسکولوں اور کالجوں میں اپنے بچوں کو تعلیم بھی دلوائیں اور انھیں مستقبل کے لیے تیار بھی کریں۔ اسے ایک آسان واقعے کی مدد سے چند جملوں میں سمجھیے۔

“علی ایک بہت پیارا بچہ تھا۔وہ اسکول میں ہمیشہ اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتا تھا، لیکن اسے روانی سے قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا، اٹک اٹک کر پڑھتا تھا۔ اس کے اسکول میں قرآن مجید کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی۔ علی کے والدین نے اسکول کی انتظامیہ پر زور دینے کے بجائے کہ وہ علی اور دیگر بچوں کو قرآن مجید درست تلفظ اور تجوید سے پڑھنا سکھائیں، گھر پر ایک قاری صاحب کی خدمات حاصل کرلیں۔ چند ماہ بعد علی نہایت مسحور کن آواز میں تلاوت کرنا سیکھ گیا۔ “

یہ پاکستانی شہروں کے ہر دوسرے تیسرے گھر کی کہانی ہے۔ بس اسی فارمولے پر عمل کرنا ہے اور اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔ لیکن پہلے یہ سمجھا جائے کہ پاکستانی اسکولوں اورکالجوں میں آخر ایسا کیا ہورہا ہے کہ نوجوان نسل کامیابی کی طرف گامزن نہیں ہورہی؟ اس کے لیے اسکول یا کالج کا منظر اپنے ذہن میں لائیے۔ صبح سویرے ایک بچہ جب اسکول جاتا ہے اور کسی کرسی پر بیٹھ کر اپنی کتاب نکال کر میز پر رکھتا ہے تو اسے اس بات سے غرض نہیں کہ اس میز کی خریداری میں کیا کرپشن ہوئی ہے یا اسکول کی اس عمارت کی تعمیر میں ٹھیکے دار نے کتنا مال بنایا ہے۔ بچوں کااپنے اسکول میں ، یا کالج کے طلبہ کا اپنے کالج، میں صرف چار چیزوں سے وابستہ پڑتا ہے: نصاب(یعنی کتابیں)، استاد، آلات اور اس کےہم جماعت۔ یہی چار چیزیں کسی بچے کی ذہن سازی کرتی ہیں اور اسے مستقبل میں کامیاب یا ناکام بناتی ہیں۔

نصابی کتب کے لیے ضروری ہے کہ وہ سستی اور معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اپنی جانب کسی مقناطیس کی طرح کھینچ لیں۔ سرکاری اسکولوں میں عموماً سستی کتابیں یا مفت کتابیں فراہم کی جاتی ہیں، لیکن معیار پر سمجھوتا کرلیا جاتا ہے اور مقناطیس تو کیا، ان میں زبان و بیان کی پیش کش کا مطلق خیال نہیں رکھا جاتا۔ ذرا تصور کیجیے کہ کراچی کے ایک متوسط یا غریب طالب علم کے گھر میں پانی کی قلت ہے جب کہ اس طالب علم کے نصاب میں یہ موضوع سرے سے ہی غائب ہے کہ کراچی شہر میں پانی کی قلت کو کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔یعنی عام آدمی کے تمام مسائل، اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں موجود ہی نہیں ہیں ،اور اگر کچھ موجود ہیں ، وہ طالب علم کو سوچنے اور انھیں حل کرنےکی دعوت نہیں دیتے اور اس کی مشق نہیں کراتے کہ مسئلہ کس طرح حل کیا جائے گا۔ پھر اگر نصاب پڑھانے والےاستاد کے گھر میں پانی کی قلت نہ ہو تو وہ اس طالب علم کی تکلیف کس طرح سمجھ پائے گا جس کے گھر میں پانی کی قلت ہے، غربت ہے، یا لڑائی جھگڑے ہیں۔ البتہ، اگر کسی اسکول یا کالج میں پانی کی قلت ہوجائے تو اس غریب طالب علم کومعلوم ہوگا کہ پانی کی قلت صرف اس کے ہی گھر میں نہیں ہے، بلکہ اسکول میں بھی ہے۔اگر اسکول پرائیویٹ ہو توواٹر ٹینکر ڈلوا کر اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا کہ بس چھٹی تک اسکول میں پانی دست یاب ہو۔چھٹی کے بعد بچوں کے مسائل سے اسکول کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ ایسا نصاب اور ایسے اسکول اور کالجز، بچوں کی کردار سازی کس طرح کرسکتے ہیں؟اگر ایسا نصاب ترتیب نہیں دیا جائے گا تو ان پاکستانی بچوں کی مدد کس طرح ہوگی جو اسکول کے اخراجات برداشت کرنا تو دور کی بات، پانی کی قلت سے مرجاتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ برطانوی اسکولوں، امریکن اسکولوں، کانونٹ اسکولوں اور کیمبرج نصاب کی طرز پر ایسی کتب تیار کی جائیں جو پاکستانی بچوں کے ذاتی اور گھریلو مسائل پر بات کریں۔ بدزبانی ، گالم گلوچ اور ایذا رسانی بچوں کے بنیادی مسائل ہیں ۔ آپ کسی ایسی فرنچ فرائز کی دکان پر کھڑے ہوجائیں جہاں اٹھارہ سال تک کی عمر کے بچے آتے ہوں اور ارد گرد رکھی کرسیوں پر بیٹھ کر کھاتے ہوں، اور آنے والے بچوں کی زبان ملاحظہ فرمالیں، بالخصوص وہ طلبہ جو آٹھویں سے بارہویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ یہی بچے جب اسکول جاتے ہیں تو وہاں بھی اپنے ہم جماعتوں سے بدزبانی اور بدگوئی کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس قبیح عادت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ الغرض، پاکستانی اسکول اور کالجز جو نصاب پڑھا رہے ہیں، ان میں لازماً ایسے موضوعات شامل ہونے چاہییں جو بچوں کو سوچنے کی دعوت دیں، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ بچوں کی کمر پر کتابوں کا بوجھ، ان کےکلاس ورک کو رنگ برنگا کرکے پیش کرنا، اسکول کی ویب سائٹ اور فیس بک صفحے پر محض تصاویر کی اشاعت کے لیے طلبہ کو نمائشی طور پر تیار کرنا، امتحان سے قبل جلدی جلدی خوب سارا کلاس ورک کروانا اور خوب ساراہوم ورک دینا، یہ سب پاکستانی اسکولوں اور کالجوں کی روایات ہیں ۔

دوسری خامی ان پاکستانی اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی تقرری ہے۔ گرامر اسکول، برطانوی اسکول، امریکن اسکول، کانونٹ اسکول، اور تمام پرائیوٹ اور سرکاری اسکول اور کالجز اس خامی سے بھرپور ہیں۔ عموماً اساتذہ کو سفارش، خاندان، بیرون ملک تعلیم، سیاسی اشارے، این جی او کی ہدایت، بورڈ آف گورنر کی چاہت، اور دیگر غیر علمی بنیادوں پر ملازمت پر رکھا جاتا ہے۔ عموماً انٹرویو کے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ استاد نے کیا پہن رکھا ہے، وہ انٹرویو دینے وقت پر پہنچا ہے یا نہیں، وہ انٹرویو پینل سے جھک کر اور عاجزی سے بات کررہا ہے یا نہیں، وہ بلند و بالا دعوے کررہا ہے یا نہیں، وہ بات بات پر مسکراتا ہے یا نہیں، اسکول اور کالج کے بدتمیز طلبہ میں موجود بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کا معترف ہے یا نہیں، طلبہ کی بدتمیزی برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے یا نہیں، الغرض ایک سستا، اچھا اور عاجز ملازم ،پڑھانے کے کام پر رکھا جاتا ہے اور اسے “استاد” کا لقب عطا کیا جاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ نہایت بدتمیز ہے تو دراصل وہ نونہال آپ کو ٹیسٹ کررہا ہے اور آپ نے اس ٹیسٹ میں اعلیٰ نمبروں سے کامیا ب ہونا ہے۔ آپ نے ایسا کچھ کرنا ہے کہ کلاس میں داخل ہوتے ہی خاموشی چھا جائے۔ آپ کو ایسا استاد بننا ہے کہ آپ کی زبان سے جو لفظ نکلے ، بچے اس پر فوراً عمل کریں۔ اور ان بچوں کو ڈراڈرا کر پڑھانے کے بعد آپ نے بریک میں دھوپ میں کھڑے ہوکر ڈیوٹی دینی ہے ، تاکہ بچے تماشہ دیکھیں کہ ان کا استاد اب بریک ٹائم میں ان کا چوکیدار بن گیا ہے۔آپ کو بچوں کی خامیوں سے بھی پیار کرنا ہے۔ہمیشہ ہر طالب علم کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ہے اور یہ فرض کرنا ہے کہ ہر نکمے اور بدتمیز طالب علم کے اندر بے پناہ خوبیاں موجود ہیں۔ ۔۔ لیکن ان کی اصلاح کی ہرگز کوشش نہیں کرنی۔ صرف لیسن پلان کے مطابق پڑھانا ہے اور بس۔ نصاب ہمارا ، بچے ہمارے ،اور استاد کا کام صرف اتنا کہ اسکول انتظامیہ کی خواہشات کے عین مطابق بچوں کی دیکھ بھال کرنا۔ اب پڑھانے کا ایسا کام تو صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کا مقصد صرف مہینے کے آخر میں تنخواہ کا حصول ہو۔ بچوں کی کردار سازی ، ان میں کتب بینی کی عادت پیدا کرنا او ر انھیں جدید ٹیکنالوجی کی جانب راغب کرنے سے ایسے شخص کو کیا سروکار؟ اور جس دن سروکار ہوا، اس دن ایسا شخص ادارے سے باہر۔

یہ ہیں پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر موجود پاکستانی اسکول اور کالجز۔ والدین کے اخلاق حمیدہ پر تو ایک الگ مضمون لکھنا پڑے گا جن کا کام صرف اساتذہ کی عیب جوئی ہوتاہے۔ ظاہر ہے، وہ بھی تو پاکستانی اسکول اور کالجوں کے ہی کریلے ہیں جن پر خوب نیم چڑھ چکا ہے۔ یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ صرف پاکستان ہی میں نہیں، بلکہ دنیا بھر میں تعلیم ایک کاروبار بن چکا ہے۔ پاکستان کے ہر اسکول اور کالج کی انتظامیہ، سرمایہ داروں پر مشتمل ہے جن کا طریقہ کار یہ ہے کہ پچیس تیس کسٹمرز کے بچوں کو ایک کمرے میں بٹھا دیا جائے اور ایک ملازم ان پر مقرر کیا جائے۔ اس موقع پر میں ایک سوال پوچھتا ہوں۔ کیا پاکستان کا ٹیچنگ لائسنس دنیا بھر میں قابلِ استعمال ہے؟ یعنی کیا پاکستانی اسکول اور کالج کا استاد برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جاکر پڑھا سکتا ہے؟ اس کا جواب نہایت آسان اور سادہ ہے: ہرگز نہیں۔ پاکستان کے اسکولوں اور کالجوں میں ٹیچنگ لائسنس یا ٹیچنگ سرٹیفکیٹ کے بغیرہی اساتذہ کی تقرری ہوجاتی ہے۔ وہ اساتذہ جو وقت کی قدر ہی نہیں جانتے، کتابیں نہیں پڑھتے، تحقیق سے کوسوں دور رہتے ہیں، جو آپس میں حسن سلوک کے بجائے عداوت، حسد اور بغض رکھتے ہیں۔ ایسا ہی استاد اور ایسا ہی نصاب، پاکستان کے سرمایہ دارانہ اسکولوں اور کالجوں کی ضرورت ہے۔یہ سرمایہ دارانہ اسکول اور کالجز بچوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عوامی مسائل پر سوچنے نہیں دیتے، زبانوں پر عبور حاصل کرنے نہیں دیتے، درست سمت میں نصاب تیار نہیں کرتے، قابل اور لائق اساتذہ ملازمت پر نہیں رکھتے، اسکول اور کالج کے باہر طلبہ کے مسائل سے آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کریلے اور نیم چڑھے بن رہے ہیں جن میں نفرت، بدزبانی، لالچ، خود غرضی، والدین اور اساتذہ سے بدتمیزی، اقوام متحدہ کے 17 مقاصد سے لاپرواہی، اور سب سے بڑھ کر اپنی ہردم اصلاح سے گریز کی جڑیں گہری ہوتی جارہی ہیں جس سے پوری نوجوان نسل کی ناکامی سامنے آرہی ہے۔ اس عفریت کو روکنے کے لیے اسکولوں، کالجوں، نصاب اور اساتذہ کے لیے ایک نظام وضع کرنا پڑے گا جس کے لیے ابھی اس کے ذمہ دار افراد اور ادارے تیار نہیں ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *